اسلام آباد:  وزیراعظم عمران خان سے آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے ملاقات کی، جس میں ملکی سلامتی کے امور پر غور کیا گیا۔یہ ملاقات وزیراعظم ہاؤس میں ہوئی جس کے دوران سرحدوں کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔قبل ازیں عمران خان سے سی پیک اور دیگر منصوبوں پر کام کرنے والی صف اول کی 15 چینی کمپنیوں کے نمائندوں کے وفد نے بھی ملاقات کی ،وفد سے بات چیت کرتے ہوئے عمران خان نے کہا سی پیک حکومت کی اولین ترجیح ہے ، منصوبے کی تکمیل سے دوطرفہ دوستانہ تعلقات نہ صرف باہمی اقتصادی تعاون میں تبدیل ہونگے بلکہ پورے خطے میں نئے امکانات اور مواقع کی راہیں کھلیں گی، چینی کمپنیوں کو منافع بخش کاروباری منصوبے شروع کرنے کیلئے حکومت کی کاروبار دوست پالیسیوں سے فائدہ اٹھانے میں ممکنہ سہولت فراہم کی جائے گی۔ اس موقع پر پاکستان میں چین کے سفیر نے وزیراعظم کو چینی صدر اور وزیراعظم کی جانب سے نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا اور کہا کہ چینی قیادت وزیراعظم کے دورہ چین کی منتظر ہے ۔ انہوں نے چینی تاجروں کو سہولیات دینے اور ان کے مسائل کے حل میں ذاتی دلچسپی لینے پر چینی قیادت اور تاجر برادری کی جانب سے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ چینی کمپنیاں پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی میں حکومتی کوششوں میں شراکت داری جاری رکھیں گی۔ وزیر اعظم سے ملاقات کرنیوالی کمپنیوں کے وفود میں پاور چائنہ، تھری گارجیس کارپوریشن، سی ایم ای سی، نیلم جہلم پاور پلانٹ پراجیکٹ پر کام کرنیوالی کمپنی، نورینکو، اورنج لائن پراجیکٹ، ہواوے ، زونگ، پوسٹ قاسم پاور پلانٹ، چائنہ سٹیٹ کنسٹرکشن، چائنہ ہاربر، مٹیاری لاہور ٹرانسمیشن لائن پراجیکٹ پرکام کرنیوالی کمپنی، ہائیر اور دیگر کمپنیوں کے نمائندے شامل تھے ۔ ادھروزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت سیاحت کے فروغ سے متعلق اجلاس ہوا،اجلاس میں سیاحت کے فروغ کیلئے کئے جانے والے اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ اجلاس کو بتایاگیا کہ خیبر پختونخوا میں 11 جبکہ پنجاب میں 8 مربوط سیاحتی زونز قائم کئے جارہے ہیں۔ یہ مربوط سیاحتی علاقے گبین جبہ، سوات (9200 فٹ بلندی)، منکیال، سوات ( 8700 فٹ )، بیون، سوات ( 11000 ہزار فٹ )، بیر مغلشت، چترال (9000 فٹ ) ، گولین ، چترال (10400 فٹ) ککلشت، چترال (7500 فٹ)، بروائی، ناران (10000 فٹ ) اور ماہا بن بونیر (6600 فٹ بلندی ) جیسے مقامات پر قائم کئے جارہے ہیں۔ وزیراعظم کو بتایاگیاکہ سیاحت کے فروغ کیلئے بین الاقوامی طورپر کامیاب ماڈلز کی پیروی کی جا رہی ہے ۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا پاکستان میں سیاحت کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ فوری طورپر ایک جامع ویب سائٹ کااجرا کیا جائے جس میں قائم کئے جانیوالے تمام نئے ٹورسٹ زونز کی نشاندہی کی جائے ،اور اس میں مقامی و غیر ملکی سیاحوں کیلئے ان مقامات کے بارے میں تفصیلی معلومات بھی موجود ہوں۔نجی شعبہ سیاحت کی ترقی کیلئے اپنا کردار ادا کرے ،حکومت سیاحت کے فروغ کیلئے ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی، سیاحتی زونز کے قیام سے سیاحت کو فروغ ملے گا، سیاحتی زونز کے قیام میں ماحول اور قدرتی حسن پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔وزیر اعظم کی زیر صدارت دورہ چین کے حوالے سے بھی اجلاس ہوا،جس میں بتایا گیا کہ سی پیک ون محض چند پاور پلانٹس اور تین سڑکوں پر مشتمل تھا، موجودہ حکومت کے دور میں سی پیک کے دوسرے مرحلے میں زراعت، تعلیم، صحت، پانی کے منصوبوں، فنی تعلیم و سکل ڈویلپمنٹ، ٹرانسپورٹ و دیگر اہم منصوبے شامل کیے گئے ۔ وزیر اعظم نے کہا سی پیک کا دائرہ کار مزید وسیع کرنا چاہتے ہیں تاکہ دیگر ممالک بھی اس اہم منصوبے کا حصہ بنیں اور خطے میں تعمیر و ترقی کا نیا باب روشن ہو۔ سی پیک اولین ترجیح ،منصوبے سے نئے امکانات کی راہیں کھلیں گی:عمران کی15چینی کمپنیوں کے وفد سے گفتگو چینی سفیر نے قیادت کا پیغام پہنچایا، وزیر اعظم کی زیر صدارت دورہ چین اور سیاحت کے فروغ سے متعلق اجلاس