اسلام آباد: چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ تعلیم کے شعبہ میں ریاست اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہی، اس کی ناکامی کی وجہ سے لوگ نجی سکولوں کی طرف جاتے ہیں، ریاست مفت تعلیم فراہم کرنے کی آئینی ذمہ داری پوری کرے ،چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے نجی سکولوں کی فیسوں میں اضافے سے متعلق کیس کی سماعت کی ، طلبہ کے والدین کی طرف سے وکیل فیصل صدیقی پیش ہوئے اور کہا فیسوں کے بارے میں سندھ ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ کا فیصلہ تضادات کا شکار ہے ،آئین کے آرٹیکل 18کے تحت کاروبار کا آئینی حق لامحدود نہیں بلکہ مشروط ہے اور اس پر پابندیاں عائد کی جاسکتی ہیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا نجی سکول ایک کاروبار ہے ، اسے کھلا نہیں چھوڑا جاسکتا فیسوں میں اضافہ ٹھوس وجوہات کی بنیاد پر ہی ہو سکتا ہے اور یہ از خود نہیں ہوگا ،جسٹس فیصل عرب نے کہا ہر سکول قیام کے وقت فیس سٹرکچر کی منظوری لیتا ہے ،جسٹس اعجازالاحسن نے کہا فیس میں اضافہ مجاز اتھارٹی کو مطمئن کرکے ہی کیا جا سکتا ہے ،فیصل صدیقی نے کہا سکولوں کو ڈویلپمنٹ کی مد میں پیسے لینے کی اجازت نہیں،فیس سٹرکچر کا 3 سال بعد دوبارہ جائزہ لیا جاسکتا ہے ، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا ٹیوشن فیس کے علاوہ دیگر چارجز میں اضافے پر کوئی قدغن نہیں لیکن بتانا ہوگا کہ اضافہ کیوں کیا جارہا ہے ؟ چیف جسٹس نے کہا لگتا ہے والدین کو صرف ٹیوشن فیس پر اعتراض ہے دیگر چارجز پر نہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا سکولوں کی توسیع کے اخراجات والدین پر نہیں ڈالے جا سکتے ،چیف جسٹس نے کہا والدین کے پاس بچوں کو تعلیم دلانے کے آپشن ہیں، ایئر لائنز کے بھی ایک ہی منزل کے سفری اخراجات مختلف ہوتے ہیں، کیا صرف بزنس کلاس میں ہی سفرکا دباؤ ہوتا ہے ؟جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا تعلیم کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے ، ریاست کا کام ہے کہ وہ نجی سکولوں کو ریگولیٹ کرے ، چیف جسٹس نے کہا لوگوں کی مرضی ہے کہ وہ بچوں کو سرکاری سکول میں پڑھائیں یا نجی میں، جسٹس فیصل عرب نے کہا نجی سکولوں میں بھی کم اور زیادہ فیس کے آپشن ہوتے ہیں، چیف جسٹس نے کہا عدالت نے توقانونی کی تشریح کرنی ہے ،عملی مشکلات کو نہیں دیکھنا، ریگولیٹری اتھارٹی نجی سکولوں کو کام سے نہیں روک سکتی، کل ایک ایئرلائن کے دوسری ایئرلائن سے زائد کرائے کا کیس بھی آ جائے گا، فیصل صدیقی نے کہا سکول قائم کرنا اورچلانا کاروبار کے زمرے میں آتا ہے ،آئین کا آرٹیکل 18 کاروبار کی اجازت کے ساتھ پابندی بھی عائد کرتا ہے ،اعجازالاحسن نے کہا کیا قانون ساز فیس میں اضافہ پر کوئی پابندی لگا سکتے ہیں، فیصل صدیقی نے کہا ڈاکٹر بھی کہتے ہیں نجی سکولوں کی فیس کو ریگولیٹ کیا جائے ، جسٹس فیصل عرب نے کہا ڈاکٹر نہیں چاہتے ان کی فیس کو کوئی ریگولیٹ کرے ،ایک ہی عمارت میں ہر ڈاکٹر اپنی من مرضی کی فیس لے رہا ہے ،چیف جسٹس نے کہا ایک ہی عمارت میں وکلا کے بھی الگ الگ چیمبرز ہوتے ہیں، میری بات سمجھ گئے ہوں گے کہ کیا کہنا چا ہ رہا ہوں، فیصل صدیقی نے کہا میرا تعلق ڈاکٹروں کے خاندان سے بھی ہے ، وکیل اور ڈاکٹر والی بات مجھ پر صادق آتی ہے ، بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت آج تک ملتوی کر دی۔ چیف جسٹس ریاست کی ناکامی پر ہی لوگ نجی سکول میں جاتے ہیں، مفت تعلیم فراہم کرنے کی آئینی ذمہ داری پوری کی جائے :ریمارکسنجی سکول ایک کاروبار ،اسے کھلا نہیں چھوڑا جاسکتا ،فیسوں میں اضافہ ٹھوس وجوہات پر ہی ہو سکتا ہے :جسٹس اعجاز الاحسن