اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان چار روزہ دورے پر چین پہنچ گئے ۔وہ آج بیلٹ اینڈ روڈ فورم سے کلیدی خطاب کرینگے ۔روانگی سے قبل اپنے بیان میں انہوں نے کہا دورے سے تعلقات میں مزید وسعت آئے گی،پاک چین دوستی کسی عالمی و علاقائی پیشرفت سے متاثر نہیں ہوگی۔عمران خان نے کہا40سالہ طویل افغان تنازع سے پاکستان کو بہت نقصان اٹھانا پڑا،اب افغانستان کے داخلی تنازع کاحصہ نہیں بنیں گے ۔جمعرات کو اپنے ایک بیان میں عمران خان نے کہا افغان تنازع سے پاکستان اور افغانستان بری طرح متاثر ہوئے ، اب ایک طویل انتظار کے بعد افغانستان میں امن کا عمل خطے میں امن کیلئے ایک تاریخی موقع پیش کرتا ہے اور پاکستان امن عمل کی بھرپور حمایت کر رہا ہے جس میں بین الافغان بات چیت کا آئندہ منطقی مرحلہ شامل ہے جس میں افغان عوام خود اپنے ملک کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے ۔ وزیراعظم نے کہا اس تناظر میں پاکستان ہر طرح کے تشدد کیخلاف اور اس سے نہایت افسردہ ہے ، تشدد آمیز کارروائیاں قابل مذمت ہیں اور ان سے امن کا عمل مجروح ہوگا۔ دباؤ کے ذریعے مذاکرات میں اپنے مقصد کی طرف راغب ہونا درست نہیں، پاکستان تمام فریقین پر زور دیتا ہے کہ وہ اس موقع کی اہمیت کا ادراک کریں اور اس سے استفادہ کریں۔ امن عمل کی کامیابی کیلئے تمام سفارتی اور سکیورٹی تعاون فراہم کرنے کیلئے پرعزم ہے ۔ مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق بیان میں وزیر اعظم نے کہا زبردستی مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کرنے کے حق میں نہیں ،پاکستان تمام فریقین سے درخواست کرتا ہے کہ موقع کی نزاکت کا احساس کیا جائے ،افغان امن عمل کی کامیابی کیلئے ہر قسم کی معاونت کیلئے تیار ہیں۔ادھر بیجنگ پہنچنے پر سی پی پی سی سی کی بیجنگ میونسپل کمیٹی کی ڈپٹی سیکرٹری جنرل لی لی فنگ، پاکستان میں چین کے سفیر یاؤ جنگ اور چین میں پاکستانی سفیر مسعود خالد نے ان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر پیپلز لبریشن آرمی کے ایک چاق چوبند دستے نے وزیراعظم کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔ شیخ رشید، فیصل واوڈا، عبد الحفیظ شیخ، رزاق داؤد اور چیئرمین ٹاسک فورس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈاکٹرعطا الرحمن بھی وزیر اعظم کے ہمراہ ہیں۔ وزیر خارجہ شاہ محمود اوروزیرپلاننگ خسروبختیارپہلے سے چین میں موجود ہیں۔عمران خان آج بیجنگ میں دوسرے ‘‘بیلٹ اینڈ روڈ فورم’’ کی افتتاحی تقریب سے کلیدی خطاب کریں گے ۔ آئی ایم ایف کی ایم ڈی اور عالمی بینک کے سی ای او سے بھی آج ملاقات کرینگے ،لیڈرز راؤنڈ ٹیبل میں بھی شریک ہونگے ، جس میں تقریباً 38 ممالک کے رہنما شرکت کریں گے ۔ وزیراعظم اس موقع پر کئی سربراہان مملکت و حکومت اور کاروباری شخصیات سے بھی ملاقاتیں کریں گے ۔ وزیراعظم صدر شی جن پنگ اور چینی ہم منصب لی کی چیانگ سے بھی ملاقات کریں گے ۔ اس موقع پر پاکستان اور چین مختلف شعبہ جات میں دوطرفہ تعاون کیلئے کئی مفاہمت کی یادداشتوں اور معاہدوں پر بھی دستخط کریں گے ۔ وزیراعظم 28 اپریل کو پاکستان بزنس اینڈ انویسٹمنٹ فورم سے بھی خطاب کریں گے جس میں ممتاز پاکستانی اور چینی کاروباری شخصیات شریک ہونگی۔ فورم کے بعد وزیراعظم چینی صدر اور دیگر عالمی رہنماؤں کے ہمراہ بیجنگ انٹرنیشنل ہارٹیکلچر ایگزی بیشن 2019 میں شریک ہونگے ۔ چین روانگی سے قبل اپنے بیان میں وزیراعظم عمران خان نے پاک چین سدا بہار تزویراتی شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا چین ہمارا قریب ترین دوست اور ‘‘آئرن برادر’’ ہے ، سی پیک موجودہ حکومت کی اولین ترجیح رہے گا، دورہ چین ہمارے دوطرفہ روابط میں مزید وسعت اور گہرائی پیدا کرنے میں معاون ہو گا۔ انہوں نے کہا وہ باہمی دلچسپی کے تمام امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیلئے اپنے اچھے دوستوں صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم لی کی چیانگ سے ملاقاتوں کے منتظر ہیں۔ انہوں نے اس امر پر گہرے اطمینان کا اظہار کیا کہ پاک چین دوطرفہ تعلقات نہ صرف مفادات میں ہم آہنگی پر مبنی ہیں بلکہ ان کی جڑیں ماضی کے مشترکہ تجربات اور باہمی اعتماد اور افہام و تفہیم میں پیوست ہیں۔ یہ دوستی اب ہمارے عوام کے دل و دماغ میں جاگزیں ہے ، یہ کسی علاقائی اور بین الاقوامی پیشرفت سے متاثر نہیں ہو گی۔ وزیراعظم نے پاکستان کی آزادی، خودمختاری، علاقائی سالمیت کیلئے چین کی ٹھوس اور غیر متزلزل حمایت پر چین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہم بنیادی مفاد کے حامل تمام ایشوز پر بیجنگ کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے ۔ انہوں نے چین کے سب کیلئے مفید تعاون اور مشترکہ منزل پر مبنی پر امن دنیا کے وژن اور صدر شی جن پنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ اقدام اور ترقی کے نئے ماڈل کی پرزور انداز میں تائید کی۔ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں ہم سماجی و اقتصادی ترقی، ملازمتیں پیدا کرنے ، روزگار کے منصوبوں اور خصوصی اقتصادی زونز سمیت زراعت اور صنعتی تعاون پر مشترکہ طور پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ جمعرات کی صبح وزیراعظم سے معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کی قیادت میں وزیر اطلاعات پنجاب صمصام بخاری اور وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا شوکت یوسفزئی نے ملاقات کی۔ ملاقات میں حکومت کے ریفارمز و ترقیاتی ایجنڈے و دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ عمران خان نے وزراکو ہدایت کی کہ حکومت کے ترقیاتی ایجنڈے اور عوامی فلاح وبہبود کی غرض سے کئے جانیوالے اقدامات میں عوام کی بھرپور شرکت کو یقینی بنانے کیلئے ضروری ہے کہ ان اقدامات کے بارے میں عوام کو مکمل طور پر آگاہی فراہم کی جائے ۔عمران خان سے سعودی شوریٰ کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر عبداللہ بن محمد الشیخ اور وفدنے ملاقات کی، وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے عمران خان نے کہا پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان پارلیمانی رابطوں سے دونوں ممالک کے قانون سازی سسٹم کو بہتر سمجھنے میں مدد ملے گی ۔وزیراعظم نے پاک سعودی تعلقات میں حالیہ پیشرفت بالخصوص سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے رواں سال فروری میں دورہ پاکستان پر اطمینان کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم عمران خان نے ولی عہد کی بصیرت انگیز قیادت اور سعودی عرب کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے عزم کو سراہا۔ انہوں نے سعودی عرب میں پاکستانی قیدیوں کی جلد رہائی کی امید ظاہر کی جیسا کہ سعودی ولی عہد نے اپنے دورے کے دوران وعدہ کیا تھا۔ تحریک انصاف کے 23 ویں یوم تاسیس کے موقع پر اپنے ٹویٹ میں وزیراعظم نے کہا آج پاکستان تحریک انصاف کا 23 واں یوم تاسیس ہے ، ہماری جدوجہد آزادی کے بعد سے اب تک کسی بھی جماعت سے بڑھ کر عظیم ترین ہے جو تین مراحل سے گزری۔ انہوں نے کہا کرپشن اور سٹیٹس کو سے نبرد آزما ہونے اور یہ سمجھانے کیلئے کہ انسانوں کی تعمیر کے ذریعے ہی قوم ترقی کرتی ہے ، پہلا مرحلہ تبدیلی کے پیغام کیساتھ عوام کو متحرک کرنا تھا جس میں بدعنوان سٹیٹس کو کیخلاف جدوجہد اور عوام میں شعور اجاگر کیا گیا کہ کوئی بھی قوم انسانی وسائل کو ترقی دیکر ہی آگے بڑھ سکتی ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کار زار سیاست میں 15 برس کی ریاضت کے بعد میرا پیغام لوگوں کے دلوں میں اترنے لگا جبکہ اپنی تحریک کو انتخابی میدان میں مقابلے کی استطاعت رکھنے والی جماعت کی صورت میں ڈھالنے کیلئے مجھے مزید سات برس کی صبر آزما جدوجہد کرنا پڑی۔ انہوں نے کہا آج ہم پاکستان کو ریاست مدینہ کے اصولوں پر تشکیل دینے کے حتمی مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جس میں رحم، عدل و انصاف اور انسانیت کی عظمت کی بنیاد پر معاشرہ استوار ہو۔ بہت نقصان اٹھا لیا