اسلام آباد : پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سید خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ حکومت کے پاس ایسی کوئی پالیسی نہیں کہ حالات کو کنٹرول کرسکے ۔ مدارس کی اصلاح پر حکومت خود بات کرتی تو اچھا تھا۔ تمام اداروں کو آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے کام کرنا چاہیے ۔ دو ماہ قبل قوم متحد تھی تو دنیا پریشان ہوگئی۔ ایسا لگتا ہے کہ عمران خان کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے ۔ نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سید خورشید شاہ نے کہا کہ ہمیں طاقت پر نہیں اتحاد و اتفاق پر بھروسہ کرنا چاہیے ۔ عمران خان کے پاس گالم گلوچ کے سوا کوئی ایجنڈا نہیں۔ ملک تب بچے گا جب معیشت بچے گی۔ لوگوں کی چیخیں نکل گئی ہیں۔ بجٹ آرہا ہے ۔ مزید چیخیں نکلنے والی ہیں۔ ایک کروڑ ملازمتیں دینے کا کہہ کر لوگوں کو بے روز گار کیا جارہا ہے ۔ میڈیا والے رو رہے ہیں۔ بڑے بڑے صحافی یوٹیوب پربات کرتے ہیں۔ لوگوں کا گلا نہ گھونٹا جائے ۔ انہیں بات کرنے دیا جائے ۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کمزور ہوچکی ہے ۔ کچھ طبقات اسے تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ ملک میں سرمایہ کاری رک گئی ہے ۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ کراچی کو الگ کیا گیا تو پنجابی، پشتون اور دیگر لوگ کہاں جائیں گے ؟