اسلام آباد : ہرسال 3 مئی کو آزادی صحافت کا عالمی دن منایا جاتا ہے اس دن کو منانے کا مقصد جہاں آزادی صحافت کی اہمیت افادیت صحافتی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالنا ہے وہاں معاشرے میں حق اور سچ کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ عوام میں سیاسی مذہبی اور اخلاقی و سماجی شعورکی آگاہی بھی فراہم کرناہےصحافت معاشرے کا آئینہ ہوتا ہے، اگرسچائی کے ساتھ کی جائے، ظاہر ہے کہ اگر سچائی کے ساتھ صحافت کی کارگزاری ہوگی تو یہ زمانے کی روش و رفتار اور عمرانی ضرورتوں کو پورا کرنے کی صلاحیت بھی رکھے گا۔ہر دور حکومت میں حکومت ہو یا اپوزیشن ہو، پریشرگروپس ہوں سیاسی دھڑے انہوں نے صحافت کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کے اس وقت جو تھوڑی بہت صحافت کی آزادی ہے وہ کسی کا دیا ہوا تحفہ نہیں بلکہ صحافیوں کی قربانیوں کا نتیجہ ہے سچ بولنا سچ لکھنا کہنے کو آسان بات ہے اس سے صحافیوں کی زندگی کو خطرات ہوتے ہیں اور بعض اوقات وہ زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ۔آج ہم دیکھتے ہیں کہ میڈیا آزاد ہے کیا میڈیا کے ذریعے صحافی برادری جو پروان چڑھ رہے ہیں یا چڑھ چکے ہیں وہ بھی آزاد ہیں؟ یہ ایک سوال ہے بلکہ معمہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا اور پر لکھنے کا عمل شروع کیا جائے تو ایک الگ مضمون بن جائے گا اور ہمارا مقصد کسی کی دل آزاری کرنا نہیں بس اتنا ہی کہنا کافی ہوگا کہ صحافت کے پیشے کو بدنام ہونے سے بچا کے رکھیں تاکہ عوامی اعتماد کہیں تو بحال رہے۔