اسلام آباد : تحریک انصاف کے وائس چیئرمین اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مسلم لیگ(ن) کی جانب سے حالیہ نامزدگیاں پارٹی کا اندرونی معاملہ ہے لیکن ایک تجسس اور سوالات کو جنم دیا ہے ، کیا شہباز شریف قائد حزب اختلاف کا عہدہ چھوڑ دینگے یا رکھیں گے ، نامزدگیوں سے شہباز شریف کی اپنی جماعت سکتے کی حالت میں ہے ،جب خود میثاق جمہوریت کی دھجیاں اڑادیں تو ہم کیسے رانا تنویر کو قبول کریں،رانا تنویر بطور چیئرمین پی اے سی قبول نہیں ۔گینگ آف فور کے علاوہ پارٹی رہنماؤں کو تبدیلی کا علم ہی نہیں، نہ کوئی ڈیل ہو رہی ہے اور نہ ہی کوئی ڈھیل دی جارہی، اٹھارویں ترمیم کوکو ئی نہیں چھیڑ رہا،صدارتی نظام کی بات لغو اور بے معنی ہے ، وزیراعلیٰ پنجاب سے کوئی اختلاف نہیں، اسد عمر پارٹی کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے مسلم لیگ کی جانب سے حالیہ نامزدگیوں کو ‘‘چینج آف گارڈز’’ قرار دیا اور کہا کہ پارلیمانی لیڈر کی اچانک تبدیلی سے پارلیمنٹ کی کارروائی متاثر ہوتی ہے ۔ پارلیمانی لیڈر کو تبدیل کرنے پر تو ہمارا بھی تعلق بن جاتا ہے ، ہمارا ایک دوسرے کے ساتھ تعاون ضروری ہے ۔ جمہوریت میں قائد ایوان کی ضرورت ہے تو قائد حزب اختلاف کا اپنا کردار ہے اور وہ ایک دوسرے سے لاتعلق نہیں ہو سکتے ۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ جب وزیر اعظم عمران خان نے کابینہ میں معمولی رد و بدل کیا تو ایک بھونچال سا آگیا اور اسے کابینہ کی ناکامی قرار دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں رد وبدل معمول کا عمل ہے اور تمام دنیا میں ایسا ہوتا ہے ۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ کیا ن لیگ کی قیادت اچانک تبدیلیوں پرپارلیمنٹ اور قوم کو اعتماد میں لے گی۔گینگ آف فور کے علاوہ کسی کو معلوم ہی نہیں تھا کہ کیا ہو رہا ہے یہاں تک کہ سینئر اور زیرک سیاستدان راجہ ظفر الحق کو بھی ان تبدیلیوں کا علم نہیں تھا۔اس سے ایک ڈیل کا تاثر ابھر رہا ہے جس کا ہمیں کوئی علم نہیں۔اگر شہباز شریف کی صحت اجازت نہیں دیتی کہ وہ پارلیمانی لیڈر رہیں تو ان کی صحت کیسے اجازت دے گی کہ وہ اپوزیشن لیڈر رہیں۔ اگر وہ ایک جماعت کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے تو قائد حزب اختلاف کا بوجھ کیسے اٹھائیں گے ۔