کراچی: معاشی ماہرین نے آئی ایم ایف پروگرام کو ملک کیلئے خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیل آؤٹ پیکیج سے مہنگائی بڑھے گی، ٹیکسوں میں اضافہ ہوگا جس سے عام لوگ پریشان ہوں گے ، بہتر ہے کہ حکومت وزارتوں کو کم کرے اور سرکاری ملازمین اور وزیروں کی تنخواہوں پر کٹ لگائے ، کئی ڈویژن خسارے میں ہیں مگر ان کا خرچہ زیادہ ہے ۔اس ضمن میں سابق گورنرسندھ اور ماہر معاشیات محمد زبیر نے کہا کہ پاکستان دیوالیہ ہونے جا رہا ہے ، اگر مزید بوجھ ڈالا گیا تو پاکستانی معیشت ختم ہوجائے گی،مجموعی ٹیکسز بڑھانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ماہر اقتصادیات قیصر بنگالی نے کہا کہ پاکستان کو تباہ کیا جا رہا ہے ، آئی ایم ایف کا پروگرام استحکام کا پروگرام نہیں ہے ، اگر ہم آئی ایم ایف کو اپنا پروگرام دے دیں تو وہ کڑی شرائط نہیں رکھتا لیکن ہم ایسا نہیں کرتے ، ہمیں تین سے چار ارب ڈالر کی در آمدات پر پابندی لگانے کی ضرورت ہے ، صنعتوں پر ٹیکس کم کرنا ہو گا اور ٹیکس کی شرح بھی کم کرنی پڑے گی۔ سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر سلمان شاہ نے کہا کہ ہمیں برے طرز حکومت نے تباہ کیا ہے ورنہ اس ملک میں بہت کچھ ہے ، پاکستان ایک نوجوان ملک ہے جس کی 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے ۔انہوں نے کہا کہ 80فیصد معیشت صوبوں کے پاس ہے ، آئی ایم ایف کا پروگرام تھوڑا ریلیف دے گا، اس وقت شرح سود اتنی بلند نہیں ہے ہمیں اس وقت سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہاکہ معیشت کو ایف بی آر نے جتنا نقصان پہنچایا ہے وہ کسی نے نہیں پہنچایا۔ پاکستان دیوالیہ ہونے جا رہا ہے ،مزید بوجھ ڈالا گیا تو معیشت ختم ہوجائیگی،محمد زبیر تین سے چار ارب ڈالر کی در آمدات پر پابندی لگانے کی ضرورت ہے ،قیصر بنگالی پروگرام ریلیف دیگا، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنیکی ضرورت،ڈاکٹر سلمان شاہ