اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے سندھ کی نو مسلم لڑکیوں کی تحفظ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں سندھ کی نو مسلم لڑکیوں کی تحفظ فراہم کرنے کی درخواست پرسماعت ہوئی۔ دعا فاطمہ نے کہا کہ پری میڈیکل کی تعلیم کے دوران اسلام کی تعلیمات سے متاثر ہوئی اور مرضی سے اسلام قبول کیا، مگر اپنے والد اور مقامی ایم پی اے سے جان کا خطرہ ہے، مقامی ایم پی اے اسد سکندر مارنا چاہتا ہے، اس سے تحفظ فراہم کیا جائے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ خواتین اسلام آباد ہائیکورٹ سے ہی رجوع کیوں کرتی ہیں، سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کیوں نہیں کرتیں۔ ان کے وکیل راؤ عبدالرحیم اور عمیر بلوچ نے کہا کہ وہاں جان کو خطرہ ہے، سندھ ہائیکورٹ پہنچنے سے پہلے ہی قتل کردیا جائے گا۔ چیف جسٹس ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے کہا کہ ہم اس عدالت کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، آپ لوگوں کو سندھ ہائیکورٹ پر مکمل یقین ہونا چاہیے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے لڑکیوں کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔