اسلام آباد : مشیر خزانہ ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ نے معاشی روڈ میپ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ معیشت کو خطرات سے بچا کر آگے لے جانا اور پائیدار بنیادوں پر کھڑا کرنا چاہتے ہیں، مشکلات کے دن ختم ہونے والے ہیں، 6 سے 12 ماہ میں معاشی استحکام کا پروگرام ہے ، اس کے بعد ریکوری اور گروتھ کا دور ہوگا ،گردشی قرضوں کو 2020تک صفر کر دیں گے ،امیرٹیکس نہیں دیں گے تو قرضے واپس نہیں کر سکتے ،بجٹ میں ٹیکس وصولیوں کا ہدف5550ارب روپے ہو گا ، آئندہ چند ہفتوں میں معیشت سے متعلق مزید اچھی خبریں آئیں گی ،اہم فیصلے جلد کئے جائیں گے ،آئی ایم ایف بورڈ کی منظوری تک معاہدہ سامنے نہیں لایا جا سکتا ،تنقید وہ کریں جو عالمی مالیاتی فنڈ کے پاس نہ گئے ہوں ،اخراجات کم کرنے کیلئے حکومت اورفوج ایک پیج پر ہیں۔ وفاقی وزرا کے ساتھ پریس کانفرنس کے دوران مشیر خزانہ نے کہا جب حکومت اقتدار میں آئی تو اقتصادی مشکلات کا شکار تھی، اندرونی قرضہ 31 ہزار ارب روپے اور بیرونی قرضہ100 ارب ڈالر تھا ، زر مبادلہ کے ذخائر 10 ارب ڈالر سے کم تھے ،برآمدی شعبہ کی کارکردگی صفر تھی ،مالیاتی خسارہ 2.3 کھرب روپے تھا جسے اب تک 4ارب ڈالر کم کیا گیا ہے جبکہ گردشی قرضہ 38 ارب روپے تک پہنچ چکا تھا،ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر 2017 سے کم ہونا شروع ہوگئی تھی جبکہ بڑھوتری کی رفتار بھی 5 فیصد سے گر رہی تھی،حالات کو بگڑنے سے بچانے کیلئے حکومت نے فوری اقدامات کئے ، چین ،متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سے 9.2 ارب ڈالر کی امدادلی گئی، جس سے ادائیگیوں میں توازن کو یقینی بنایا گیا، شرح سود بھی بہتر کی گئی،درآمدات میں 2 ارب ڈالر کمی لائی گئی ،ترسیلات زر میں 2 ارب ڈالر کا اضافہ کیا گیا، 38 ارب ڈالر کا گردشی قرضہ 12 ارب ڈالر کم کرکے 26 ارب ڈالر کی سطح پر لایا گیا،برآمدی شعبہ کو بھی مراعات دی گئیں،عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ سٹاف لیول کا معاہدہ ہوچکا ،آئی ایم ایف کا بورڈ چند ہفتوں میں اس کی منظوری دے گا، جس کے بعد یہ آپریشنل ہوجائے گا، آئی ایم ایف پروگرام کے معیشت پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے ، اس کے نتیجے میں عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے 2 سے 3 ارب ڈالر کے قرضے ملیں گے ،خواہ مخواہ آئی ایم ایف پر چڑھائی نہ کی جائے ،کیا ہم نے خود یہ کام نہیں کرنے تھے ؟پاکستان کے مفاد میں سب اپنے اختلافات بالائے طاق رکھ دیں اور آگے بڑھنے دیں، عوام نتائج کی خود گواہی دیں گے ، زیادہ بات کرنے کے بجائے کارکردگی دکھانے کی ضرورت ہے ، اسلامی ترقیاتی بینک بھی موخر ادائیگی پر 1.2 ارب ڈالر کی سہولت دے گا ، ان اقدامات کے نتیجے میں لوگوں اور اداروں کا اعتماد بحال ہوگا،آئی ایم ایف کا ادارہ رکن ممالک کے اقتصادی مسائل کے حل کیلئے بنایا جاتا ہے ، آئی ایم ایف کے پروگرام کیلئے کئی ممالک جاچکے ہیں ،پاکستان بھی ماضی میں آئی ایم ایف کے پاس جاچکا ، ہمارا پروگرام تین سال کا ہے ، جس کے تحت پاکستان کو 3.2 فیصد کی شرح سے قرضہ دیا جائے گا،اس پروگرام سے دیگر اداروں کو بھی پاکستان کی فنانسنگ کی طرف راغب کرنے میں مدد ملے گی، اس سے ایک اچھا پیغام یہ بھی جائے گا کہ پاکستان منظم انداز میں اپنے اقتصادی معاملات کو آگے لے کر بڑھ رہا ہے ،سعودی عرب نے موخر ادائیگی پر تیل کی فراہمی کا اعلان کیا جس پر یکم جولائی سے عمل درآمد کا آغاز ہوگا، بے نامی قانون کی وجہ سے بہت ساری رقم باقاعدہ معیشت میں نہیں آرہی تھی، ایمنسٹی سکیم کا مقصد معیشت کو دستاویزی بنانا ہے ،ماضی کی سکیموں اور موجودہ سکیم میں بہت فرق ہے ، ہمارا مقصد یہ ہے کہ بزنس مین کو ٹیکس کے معاملات میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ،ایمنسٹی سکیم سے تمام پاکستانی فائدہ اٹھا سکتے ہیں،اس سے رئیل اسٹیٹ باضابطہ طور پر معیشت کا حصہ بنے گی، اس کا ٹائم فریم 30 جون تک ہے ،ان اقدامات سے مارکیٹ پر اعتماد بحال ہوا ،چند روز میں سٹاک مارکیٹ میں 7 فیصد اضافہ ہوا ، دو دنوں میں سٹاک مارکیٹ میں جو تیزی دیکھی گئی ، اس کی مثال گزشتہ 10 سال میں نہیں ملتی ،عالمی اداروں کی رپورٹیں بھی مثبت ہیں ،2020 استحکام کا سال ہے ،بجٹ میں کفایت شعاری پر توجہ دی جائے گی،حکومتی اخراجات اوربجلی کے نقصانات کم کئے جائیں گے ،31 دسمبر2020 تک لائن لاسز صفر کردیئے جائیں گے ،ریونیو بڑھانے پر توجہ دی جائے گی،امیر طبقے کو ٹیکس دینا ہوگا تب ہی مشکلات سے نکل سکتے ہیں، کوشش کریں گے کہ جو لوگ ٹیکس دے رہے ہیں ان پر اضافی بوجھ نہ ڈالا جائے ، ٹیکس کے دائرہ کار میں وسعت لانا ضروری ہے ،اس وقت 360 کمپنیاں مجموعی ٹیکس کا 25 فیصد ادا کررہی ہیں ،20 لاکھ کے قریب لوگ ٹیکس دے رہے ہیں، جن میں 6 لاکھ کے قریب تنخواہ دار طبقہ شامل ہے ،31 لاکھ کمرشل صارفین میں سے 14 لاکھ ٹیکس دے رہے ہیں ، اسی طرح 4 لاکھ کے قریب صنعتی صارفین میں سے صرف 38 ہزار ٹیکس دہندگان ہیں، امیر لوگوں پر انکم ٹیکس کا بوجھ ڈالا جائے گا، 3لاکھ صنعتی گیس کنکشن، 7لاکھ کمرشل بجلی کے کنکشن اور 5کروڑ کاروباری اکاؤنٹس رکھنے والوں کو ٹیکس نیٹ میں لائیں گے ، ایک لاکھ کمپنیوں میں صرف50ہزار فعال ہیں، جنہیں انکم ٹیکس گوشوارے داخل کرانے کا پابند کیا جائے گا، 5کروڑ کرنٹ اکاؤنٹ رکھنے والوں میں40لاکھ بہت دولت رکھنے والے ہیں ،جن میں سے 4ہزار ٹیکس دے رہے ہیں، 28ملکوں سے پاکستانی امرا کی جائیدادوں اور خفیہ بینک اکاؤنٹس کی معلومات مل چکی ہیں جنہیں ٹیکس نیٹ میں توسیع کیلئے استعمال میں لایا جائے گا ،جب ملکی وسائل بڑھیں گے تو عوامی فلاح پر خرچ کرنے میں آسانی ہوگی،مہنگائی اور افراط زر پر قابو پانا حکومتی ترجیحات میں شامل ہے ،ایکسچینج ریٹ اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے ، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں24ڈالر سے بڑھ کر70ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، ہمارے بس میں نہیں کہ ہم تیل کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ عوام پر منتقل نہ کریں،کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ واپس کرایا جائے گا،حکومت نے معاشرے کے کمزور طبقات کو مہنگائی کے اثرات سے بچانے کیلئے پالیسی مرتب کی ہے ، 300یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والوں پر کوئی بوجھ نہیں ڈالاجائے گا، اس مقصد کیلئے زر تلافی کی مد میں 211 ارب روپے رکھے جائیں گے ،گیس کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں 40 فیصد صارفین کو تحفظ فراہم کیا جائے گا ،احساس پروگرام کی رقم100 ارب سے بڑھا کر 180 ارب کی جارہی ہے ،پسماندہ علاقوں کو ترقی کے دائرے میں لانے کیلئے 50 ارب اور قبائلی علاقوں کیلئے 46 ارب روپے کے اضافی فنڈز رکھے جائیں گے ، فوڈ سبسڈی کیلئے 30 ارب روپے کے فنڈز مختص ہوں گے ، رمضان میں 2ارب روپے کی مفت بجلی فراہم کی گئی ،سستی اشیا کی فراہمی کیلئے 6ارب روپے کا خصوصی پیکیج دیا گیا ، نئی ملازمتوں کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے ،معیشت کی بڑھوتری اگرچہ اچھی نہیں لیکن پالیسیاں بہتر بنائیں توملازمتوں کے زیادہ مواقع پیدا ہوسکتے ہیں،2008 سے 2013 تک گروتھ ریٹ کم تھا لیکن پالیسیاں بہتر ہونے سے لاکھوں کی تعداد میں ملازمتیں پیدا ہوں گی،2013 سے 2018 تک اگرچہ گروتھ ریٹ اچھا تھا لیکن پالیسیاں اچھی نہ ہونے سے ملازمتوں کے مواقع کم پیدا ہوئے ،ہاؤسنگ پروگرام کے تحت 28 شعبوں میں ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے ،اس کے تحت کئی شہروں میں کام شروع ہوچکا ،کامیاب جوان پروگرام پر عمل درآمد کا آغاز کیا گیا ہے ، نوجوانوں کو رعایتی نرخوں پر قرضے دیئے جائیں گے جس کیلئے 100 ارب روپے مختص کئے جارہے ہیں، زراعت کو بہتر بنایا جارہا ہے ، ہماری کوشش ہے کہ زرعی ترقی کیلئے 250 ارب روپے مختص کئے جائیں، اس میں کل 28 منصوبے ہوں گے ، جس پر صوبوں کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا،درآمدات پر توجہ کم کرکے مینوفیکچرنگ پر توجہ دیں گے ، جس سے روزگار کے زیادہ مواقع پیدا ہوں گے ،کوشش ہوگی کہ نجی شعبے کو ملازمتیں فراہم کرنے والا شعبہ بنایا جائے ،اس مقصد کیلئے ٹیکس کی مد میں نجی شعبے کو مراعات دیں گے تاکہ وہ زیادہ لوگوں کو روزگار فراہم کرسکیں ،رواں سال سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام کا حجم 600 ارب سے بڑھا کر 925 ارب روپے کیا جارہا ہے تاکہ بنیادی ڈھانچے اور ترقی کے منصوبے مکمل ہوسکیں،صوبوں کے ساتھ مل کر ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھا رہے ہیں تاکہ رقوم کا درست استعمال ہوسکے ،برآمدات میں اضافے کیلئے چین اور ترکی کے ساتھ خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں، دفاعی بجٹ سے متعلق مشیر خزانہ نے کہا پاکستان مشکل خطے میں واقع ہے اور مشکل دشمن کا سامنا ہے ، قومی عزت،وقار اور سرحدوں کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا اور عوام کی حفاظت کیلئے جو بھی قربانی دینا پڑی دیں گے ،ترقی کا سفر پوری قوم مل کر طے کرے گی، پریس کانفرنس میں وزیر مملکت محصولات حماد اظہر ،وفاقی وزیر منصوبہ بندی مخدوم خسرو بختیار، وزیر توانائی و پٹرولیم عمر ایوب خان ،معاون خصوصی اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان ،سیکرٹری اطلاعات شفقت جلیل،سیکرٹری خزانہ نوید خرم بلوچ ،چیئرمین ایف بی آر سید شبر زیدی اور وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر خاقان نجیب بھی موجود تھے ۔چیئر مین ایف بی آر شبر زیدی نے کہا کہ بے نامی ایکٹ کے تحت اثاثے ضبط اور سزا ہو سکتی ہے ،30 جون کے بعد بے نامی اثاثوں کے خلاف ایکشن ہو گا، بینک اکاؤنٹ منجمد کرنے سے 24 گھنٹے پہلے آگاہ کیا جائے گا،ٹیکس اکٹھا کرنے کے لئے کسی کو ہراساں نہیں کیا جائے گا، 14لاکھ ٹیکس دہندگان ہیں، 50 ہزار کمپنیوں کو سسٹم میں لائیں گے ، 3لاکھ 40 ہزار کے صنعتی کنکشن ہیں جن میں سے 40ہزار ٹیکس دے رہے ہیں، اصلی ڈیٹا جمع کر رہے ہیں، ہمارا بنیادی فلسفہ کاروباری افراد کا اعتماد ہر حال میں بحال کرنا ہے ، کاروباری طبقے کو ٹیکس ادائیگی کے لئے سہولتیں دیں گے ،کاروباری لوگوں کواثاثے ظاہرکرنے کاموقع دیاگیا، چھاپوں کے بجائے نوٹس دے کرکاروباری طبقے کوٹیکس نیٹ میں لایاجائے گا۔وزیر توانائی و پٹرولیم عمر ایوب نے کہا مسلم لیگ ن کی حکومت نے الیکشن جیتنے کے لئے بجلی بل نہ بھرنے والوں کو بھی بجلی دی،تیل کی قیمتوں کو مصنوعی طور پر روکے رکھا ، سابق حکومت نے پاور سیکٹر، پلاننگ اور معیشت کے لئے ہمارے آگے بارودی سرنگیں بچھائیں،ہم انہیں آہستہ آہستہ صاف کر رہے ہیں،مسلم لیگ ن کی حکومت کی نااہلی سے گردشی قرضہ 450 ارب روپے تک پہنچا، 31 دسمبر 2020 تک گردشی قرضوں کو صفر کر کے دکھائیں گے ، بجلی چوروں کے خلاف جہاد کیا ،بلوں کی وصولی میں8ماہ کے دوران 81 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، 80 فیصد علاقوں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم ہو چکی ،صنعتوں کو رمضان المبارک میں بھی مسلسل بجلی مل رہی ہے ،معیشت کاپہیہ چل رہاہے ،نپیرا نے 3.84 روپے فی یونٹ بجلی مہنگی کرنے کی درخواست دی ،بلوچستان میں 2000 میگا واٹ کے منصوبوں کے لئے بات چیت چل رہی ہے ۔ وزیر منصوبہ بندی مخدوم خسرو بختیار نے کہا بھاشا ، مہمند اور داسو ڈیمز کے منصوبوں کو آگے بڑھایا جا رہا ہے ، حکومت 10 ارب درختوں کی شجر کاری کیلئے 10 ارب رکھ رہی ہے ،تمام علاقوں کو مساوی طریقے سے ترقی یافتہ بنانا چاہتے ہیں، بلوچستان کی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے ، گوادر کو نیشنل گرڈ سے منسلک کر رہے ہیں،پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت مختلف منصوبے شروع کرنے جا رہے ہیں، 925 ارب کا پی ایس ڈی پی ہے ،صوبوں کو ملا کر 1837ارب کا قومی ترقیاتی بجٹ رکھا جائے گا، سکھر سے حیدر آباد سڑک کی تعمیر دسمبر سے شروع کریں گے ۔