مکہ،تہران: خادم الحرمین الشریفین نے مکہ میں خلیج تعاون کونسل کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران علاقائی اور عالمی سالمیت کے لیے خطرہ ہے ۔ شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ایران کو دوسرے ملکوں کے معاملات میں مداخلت سے باز رکھنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے ۔ انہوں نے کہا ایرانی تخریبی کارروائیوں کے بارے میں کوئی موقف نہ اپنا کر آج ہم اس مقام پر آن پہنچے ہیں۔انہوں نے مزید کہاایران خطے میں دہشت گردی کی کارروائیوں کی آبیاری کرتا ہے جس سے تجارتی جہاز رانی اور تیل کی عالمی سپلائی کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔سعودی میزبانی میں ہونے والے خلیج تعاون کونسل کے اعلامیے میں خطے کے ممالک میں ایرانی مداخلت کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے تہران کے جارحانہ عزائم کے خلاف مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ۔اعلامیے میں رکن ممالک کے درمیان اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ خلیج تعاون کونسل نے عالمی برادری سے پْر زور مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے ساتھ تہران کو بین الاقوامی قوانین اور عالمی معاہدوں کا پابند بنائے ۔اعلامیے میں ایران کو حکمت و دانش مندی کا مظاہرہ کرنے اور خطے میں فرقہ واریت کو ہوا دینے سے باز رہنے کا مشورہ دیا گیا۔اجلاس میں طے پایا کہ کسی بھی ایک پر حملہ سب پر حملہ سمجھا جائے گا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عراقی صدر نے خبردار کیا کہ اگر حالیہ بحران سے صحیح طرح نہ نمٹا گیا تو خطے میں جنگ بھی چھڑ سکتی ہے ۔ ایران نے تہران پر عائد کیے جانے والے خلیج تعاون کونسل کے الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب مکہ کانفرنس کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے ۔ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان عباس موسوی نے عرب لیگ اور خلیج تعاون کونسل کے اجلاسوں کے بعد تہران پر لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔ایران نے سعودی عرب پر الزام لگایا کہ وہ اسلامی اور عرب ملکوں کے مابین تقسیم کے بیج بو رہا ہے جس کا فائدہ اسرائیل کو ہو رہا ہے ۔ سعودی کانفرنس