اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ریاست کی جانب سے ایک شہری سرتاج علی کی ضمانت کیخلاف درخواست مسترد کر دی ، سرتاج کیخلاف سرکار کی جانب سے للکارنے کی بنا پر کیس درج کیا گیا تھا۔ ہائیکورٹ نے سرتاج علی کو 2018 میں ضمانت پر بری کیا تھا جبکہ عدالت نے کہا ملزم سرتاج علی کو تین سال تک جیل میں رکھا گیا کوئی جرم ثابت نہیں ہوا،چار سالوں میں نہ ہی کوئی چارج فریم ہوا۔ چیف جسٹس نے کہاتین سال صرف للکارنے اور اپنی رگیں پھلانے کی وجہ سے جیل میں رکھا گیا،ٹرائل میں کوئی شواہد نہیں ملے اور للکارنے والا جیل کاٹ آیا، حکومت کو اس بات پر کوئی جرمانہ ہونا چاہیے ،سپریم کورٹ کا وقت ضائع کیا گیا ،حکومت کو کچھ سوچنا چاہیے ،ویڈیو لنک پر خرچہ آرہا ہے جرمانہ کر دیتے ہیں،ریاست خرچہ تو دے جو وقت ضائع ہوا، ریاست کو اپنا دماغ استعمال کرنا چاہیے ،حکومت پاکستان اتنے قیمتی وقت میں سے وقت نکال کر سپریم کورٹ آگئی کیا اور کوئی کام باقی نہیں رہا؟ سرتاج علی نے کسی کو نقصان نہیں پہنچایا صرف اپنی رگوں کو پھلایا۔ ویڈیو لنک کے ذریعے للکارنے کی بنا پر ریاست کی جانب سے سرتاج علی کی ضمانت کیخلاف درخواست پر سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی ۔دور ان سماعت چیف جسٹس نے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل سندھ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاظفر صاحب آپ ماشا اللہ سے پانچ دنوں سے ٹی وی پر آرہے ہیں، لوگ آپ سے رابطے کیلئے نام اور پتا پوچھ رہے ہیں۔عدالت نے ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے ریاست کی جانب سے دائرکی گئی درخواست مسترد کر دی۔ادھرسپریم کورٹ نے پوسٹ آفس کے ملازمین شبیر اعوان اور محمد سمیع کے چیک چوری اور جعلی اکاؤنٹ سے متعلق کیس میں لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے نیب کی درخواست مسترد کر دی ،دوران سماعت چیف جسٹس نے کہاسترہ سال پہلے کا معاملہ ہے نیب کے کیس کے سر پاؤں ہی نہیں ہیں، نیب کے شواہد سے ہائیکورٹ کا فیصلہ اظہر من الشمس ہو گیا ہے ، 2015 کے نیب کے جتنے بھی کیس آرہے ہیں وہ اسی قسم کے ہیں، لگتا ہے 2015 میں کوئی مسئلہ تھا نیب نے ہر کیس سپریم کورٹ میں چھوڑ دیا، نیب نے اپنے اوپر سے بوجھ اتارا۔چیف جسٹس نے کہا ملزموں نے 15 لاکھ واپسی کے چیک دیئے جو ڈس آنر ہو گئے ،دونوں کو کیسے پتا چلا کہ بلینک چیک ہیں، کیا لفافہ اس لئے کھولا گیا کہ کہیں دہشت گردی کا پیسہ نہ ہو ۔عدالت نے عدم شواہد کی بنیاد پر لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے نیب کی درخواست مسترد کر تے ہوئے کہا ریکارڈ سے کوئی واضح شواہد نہیں ملے ۔