لاہور: وزیر اعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ حکومت اپنی صفوں میں کالی بھیڑوں کو تلاش کرے ، ریفرنس کی خبر کیسے میڈیا میں آئی ، تحقیقات ہونی چاہئیں ، کابینہ کی باتیں بھی باہر آجاتی ہیں ۔ایک انٹرویو میں انہوں نے اس سوال پر کہ اس معاملہ پر تحریک انصاف کے اندر بھی مخالفت پائی جاتی ہے ، کہا کہ حتمی نتیجے تک میڈیا میں اس قسم کی کوئی سٹوری نہیں آنی چاہئے ۔اس معاملے میں انتہائی رازداری رکھنا آئینی ذمہ داری ہے ،ریفرنس کا وزارت قانون اور متعلقہ فورم کے علاوہ کسی کو پتہ نہیں تھا،میڈیا میں یہ خبر کیسے لیک ہوئی اس کی تحقیقات کی جائے گی ، انھوں نے کہا کہ میڈیا کو بھی ایک ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاہئے اور اداروں میں اصلاحات لانے کے لئے حکومت کی مدد کرے ۔ انھوں نے کہا کہ اپوزیشن نے ہمیشہ اپنی من پسند خواہشات اور حالات کو دیکھ کر عدلیہ کا احترام کیا ہے ، ہر شخص اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ ن لیگ کی لیڈر شپ اور کارکنوں کی عدلیہ کے بارے میں جو سوچ رہی ہے اور عدلیہ کے ججز کے لئے جن الفاظ کا چنائو کیا گیا وہ کیا تھا؟اپوزیشن سپریم جوڈیشل کونسل جیسے غیر جانبدار ادارے پر تنقید کر کے اس پر عدم اعتماد کر رہی ہے جو انھیں آئینی و قانونی طور پر زیب نہیں دیتا۔فردو س عاشق اعوان نے کہا کہ ہم اپنی صفوں میں بھی ان کالی بھیڑوں کو تلاش کریں گے جو ملکی مفاد کے ان ایشوز پر اپنے ذاتی تعلقات کو فوقیت دیتے ہیں کیونکہ ہمارے افسروں اور ڈھانچہ میں اس قسم کا کہیں کوئی غیر ذمہ دارانہ رویہ موجود ہے تو اس کی بھی اصلاح کی ضرورت ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ کابینہ کے اجلاس بھی ہوتے ہیں اور انتہائی خفیہ اجلاس کی خبریں ذرائع کے حوالے سے چلائی جا رہی ہوتی ہیں یہ ہماری سیاسی پختگی کی علامت نہیں ، ان کا کہنا تھا کہ قومی راز داری جس کا ہر ایم این اے حلف اٹھاتا ہے یہ قومی راز ان کے سینے میں دفن ہوتے ہیں، ان کو اخبارات کی زینت نہیں بننا چاہیے ۔ انھوں نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل ایک غیر جانبدار ادارہ ہے اس کی ساکھ ہر قسم کے شک و شبہ سے بالا تر ہے اس کی طرف سے جو بھی فیصلہ ہوگا حکومت اس کو قبول کرے گی، ہمیں اداروں کو مضبوط بنانا ہے ہم عدلیہ کی آزادی پر یقین رکھتے ہیں ہم آئین و قانون کی حکمرانی کے لئے پر عزم ہیں، یہ کہنا کہ اس کارروائی کا مقصد کسی معزز جج کی بے توقیری ہے یہ من گھڑت اور منفی پراپیگنڈاہے جو اپوزیشن کر رہی ہے اپوزیشن سینیٹ میں بے نقاب ہو گئی جب اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز کی تعداد بڑھانے کے حکومتی بل کو مسترد کردیا گیااور اپوزیشن عوام کے مفاد کے بجائے روایتی ہتھکنڈوں پر اتر آئی۔ انھوں نے کہا کہ اگر کسی کو نیب کے بارے میں تحفظات ہیں تو متعلقہ فورم سے رجوع ۔ انھوں نے کہا کہ عدلیہ کے ساتھ اپوزیشن کی محبت یکدم جاگ گئی ۔ہم ان کی آہ و بکا سن رہے ہیں اپوزیشن نے ایک آئینی مسئلہ کو سیاسی رنگ دے کر پوائنٹ سکورنگ کرنے کی کوشش کی ہے ۔انھوں نے کہا کہ اگر کسی جج پر کوئی الزام سامنے آتا ہے تو کیا وہ سچ ہے یا جھوٹ اس کا فیصلہ سپریم جوڈیشل نے کرنا ہے ۔انھوں نے سوال کیا کہ کیا حکومت سیاسی مصلحتوں کی بنا پر اس مسئلہ کو نہ چھیڑے ؟اور ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھی رہے اور اگر ادارے کے اندر کوئی مسائل ہیں تو کیا حکومت اس حوالے سے اپنی ذمہ داری پوری نہ کرے ؟ایسا نہیں ہوگا،اب ہمیں آگے آکر ان تمام چیلنجز سے نمٹنا ہے ۔ اپنے بیان میں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا اپوزیشن اپنے لئے بولنے کا جمہوری حق تو چاہتی ہے ،لیکن حکومتی ارکان کو یہ حق دینے کیلئے تیار نہیں۔ فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ قومی اداروں کے خلاف سنگین جرائم کے مرتکب ملزموں کی ترجمانی کے بجائے اپوزیشن ایوان میں اپنا حقیقی پارلیمانی کردار اداکرے ۔ ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان کے متعلق مریم صفدر کا ناشائستہ لب و لہجہ ان کی بڑھتی ہوئی فرسٹریشن کا اظہار ہے ۔مریم صفدر کو خوف ہے کہ عمران خان کی کامیابی سے ملک منافع میں اور سیاسی جماعت کی آڑ میں ان کی پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی خسارے میں ہو گی۔