اسلام آباد : اپوزیشن جماعت مسلم لیگ(ن ) نے حکومت کی گزشتہ دس ماہ کی کارکردگی پر’’منتخب حکومت بمقابلہ نامزد حکومت‘‘ کے عنوان سے وائٹ پیپر جاری کر دیا اور اعلان کیا ہے کہ مہنگائی کے خلاف عید کے بعد سڑکوں پر ہوں گے ، ہم اقتدار کی جنگ نہیں لڑ رہے عوام کے حقوق اور مہنگائی کے خلاف سڑکوں پر آئیں گے ، اس کے نتیجے میں حکومت کو گراناپڑا تو گرا دینگے ۔ وائٹ پیپر کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے جتنے قرضے 5سال میں لئے تھے موجودہ حکومت نے اس سے آدھے قرضے 10ماہ میں لئے ہیں، شاہد خاقان عباسی نے کہاہے کہ آج خارجہ پالیسی معیشت کے تابع ہو چکی ہے ،ملکی خود مختاری خطرے میں پڑ گئی ہے ،حکومت کے خلاف اسمبلی کے اندر اور باہر بھرپور احتجاج کیا جائے گا، حکومت عدلیہ کی ٹارگٹ کلنگ کررہی ہے ، وہ شب خون ماررہی ہے ، حکومت کو ناکامی ہو گی،اس حوالے سے پیمرا کے ذریعے زبان بندی کرلی گئی ،کسی کو عدلیہ پر شب خون نہیں مارنے دیں گے ، حکومت کے دس ماہ میں روپے کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں 27فیصد کمی ہوئی ہے جو کہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ روپے کی قدر میں کمی ہے ، مہنگائی دو گنا بڑھ کر7.5فیصد تک پہنچ چکی ہے ، پٹرول کی قیمت میں 23فیصد ، ڈیزل کی قیمت میں 24فیصد، ایل پی جی کی قیمت میں 5فیصد، بجلی کی قیمتوں میں 20فیصد اضافہ ہوا جبکہ گیس کی قیمت میں 143فیصد اضافہ ہوا، حکومت کی آمدن میں گزشتہ سال کی نسبت کوئی اضافہ نہیں ہوا، اس سال حکومت کے ریونیو میں 400سے 500ارب کی کمی متوقع ہے ،حکومت کے اخراجات میں ایک ہزار ارب سے زائدکا اضافہ ہوا، اگر قرضہ لینے کی یہی شرح برقرار رہی تو موجودہ حکومت کی مدت ختم ہونے تک یہ قرضہ 50ہزار ارب تک پہنچ جائے گا جو گزشتہ 72سالوں کے قرضے سے زیادہ ہو گا، ہماری حکومت کے دوران اقتصادی ترقی کی شرح 6.2فیصد تھی جسے کم کر کے 5.8فیصد کر دیا گیاہے ، اب یہ مزید کم ہو کر 3فیصد تک آ گئی ہے ،ہماری حکومت کے دوران 313ارب ڈالر کی جی ڈی پی تھی اب کم ہو کر 280ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے ، حکومت نے شرح سود 6فیصد سے بڑھا کر 12فیصد سے بھی زائد کر دی ہے ، اس سے حکومت کے قرضوں اور سود کے اخراجات میں مزید اضافہ ہو جائے گا، مفتاح اسماعیل نے کہا کہ حکومت کی جانب سے 20فیصد روپے کی قدر میں کمی کرنے کے باوجود ایکسپورٹ میں ایک فیصد کمی ہوئی ہے ۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما و سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل، مسلم لیگ(ن) کی سیکرٹری اطلاعات مریم اورنگزیب کے ہمراہ نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ گزشتہ سال کی نسبت موجودہ حکومت کے دس ماہ میں روپے کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں 27فیصد کمی ہوئی ہے جو کہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ روپے کی قدر میں کمی ہے اس کے مہنگائی اور لوگوں کی قوت خرید پربڑے گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں، پٹرول کی قیمت میں 23فیصد ، ڈیزل کی قیمت میں 24فیصد، ایل پی جی کی قیمت میں 5فیصد، چینی کی قیمت میں 8فیصد ، آٹے کی قیمت میں 10فیصداضافہ ہوا، مٹن 10فیصد، چکن 5فیصد مہنگا ہوا، بجلی کی قیمتوں میں 20فیصد اضافہ ہوا جبکہ گیس کی قیمت میں 143فیصد اضافہ ہوا جس کا حکومت جواب دینے سے قاصر ہے ، حکومت کا دعویٰ تھا کہ وہ اخراجات میں کمی کر رہی ہے اس سے ظاہر ہوا کہ بھینسیں اور گاڑیاں بیچنے سے اخراجات کم نہیں ہوتے بلکہ اس کیلئے محنت کرنا پڑتی ہے اور آمدن بڑھانا پڑتی ہے ، حکومت بڑھتے ہوئے اخراجات پورے کرنے کیلئے مزید قرضے لے گی، وزیراعظم سے سچ کی کوئی توقع نہیں، وہ ہمیشہ غلط بیانی کرتے ہیں،ہماری حکومت کے دوران اقتصادی ترقی کی شرح 6.2فیصد تھی جسے کم کر کے 5.8فیصد کر دیا گیا، اب یہ مزید کم ہو کر 3فیصد تک آ گئی ہے ،یہ انتہائی خطرناک صورتحال ہے ، بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے ،ہماری حکومت کے دوران 313ارب ڈالر کی جی ڈی پی تھی اب کم ہو کر 280ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے ، حکومت کا کوئی اور میپ سامنے نہیں آرہا، حکومت نے شرح سود 6فیصد سے بڑھا کر 12فیصد سے بھی زائد کر دی ہے ، اس سے حکومت کے قرضوں اور سود کے اخراجات میں مزید اضافہ ہو جائے گا، سرمایہ کاری پر منفی اثرات پڑیں گے ، حکومت نے مہنگائی میں 92فیصد اضافہ کیا ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سیاستدان گرفتاریوں سے نہیں گھبراتے ، حکومت کے خلاف اسمبلی کے اندر اور باہر بھرپور احتجاج کیا جائے گا بلکہ حکومت گرانی پڑے تو اس کی بھی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پٹرول کی قیمتیں عالمی مارکیٹ میں گزشتہ سال کی نسبت نہیں بڑھیں، گزشتہ سال بھی عالمی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمت یہی تھی، حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر کے عوام پر بوجھ بڑھا رہی ۔ انہوں نے کہا ہے کہ ملک میں مہنگائی کا طوفان آگیا، پٹرول کی قیمتیں عالمی منڈی میں کم ہوئیں لیکن پاکستان میں مسلسل بڑھائی جا رہی ہیں، جتنے قرضے 72 سال میں لیے گئے موجودہ حکومت 5 سال میں ہی لے لے گی، پاکستان کا پہلا وزیر اعظم ہے جسے سچ بولنے کی عادت نہیں،ہمیں اس سے سچ کی توقع بھی نہیں، جب ہم نے حکومت چھوڑی تو 25 ہزار ارب کے قرضے تھے جو 28 ہزار ارب سے تجاوز کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی کی شرح دگنی ہو کر 7 اعشاریہ 5 فیصد ہو چکی ہے جبکہ اس سال حکومت کے ریونیو میں ایک پیسہ کا بھی اضافہ نہیں ہوا ہے تاہم اخراجات میں ایک ہزار ارب کا اضافہ ہو گیا ہے اور اس سال بھی حکومت کے ریونیو 4 ہزار ارب ہی ہوں گے ۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت کے 9 ماہ میں مہنگائی کی شرح میں دگنا اضافہ ہوا ہے ۔ چینی کی قیمت میں 30 فیصد اورآٹے کی قیمت میں 10 فیصد اضافہ ہوچکا ہے ۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حکومتی اخراجات میں ایک ہزار ارب روپے کا اضافہ ہو گیا ہے ، ثابت ہوا کہ بھینسیں اور گاڑیاں بیچنے سے حکومتی اخراجات میں کمی نہیں آسکتی۔عمران خان پہلے وزیراعظم ہیں جنہیں سچ بولنے کی کوئی عادت نہیں ۔انہوں نے کہاکہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی،اگر معیشت کمزور ہو گی تو آپ عسکری طور پر بھی کمزور ہونگے ۔ لاہور، اسلام آباد، کراچی ( سٹاف رپورٹر ، نیوز ایجنسیاں ، مانیٹرنگ ڈیسک ) اپوزیشن نے عید پر پٹرول بم گرانا معاشی دہشتگردی قرار دیدی ، معاشی دہشت گردی کے خلاف بھر پور احتجاج کیا جائیگا ،چور حکومت سے ہر روز بری خبر سننے کو ملتی ہے ، دنیا میں پٹرول سستا اور پاکستان میں مہنگا ہو رہا ہے ۔مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے پٹرول کی قیمتوں میں مزید اضافے کی مذمت کرتے ہوئے کہا عمران نیازی کا عید پر پٹرول بم گرانا معاشی دہشتگردی ہے ۔اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا حکومت عملی طور پر ناکام ہوچکی ہے ، عمران نیازی نے عوام کو مہنگائی اور بیروزگاری کے عذاب سے دوچار کر دیا ۔شہباز شریف کا کہنا تھا عمران نیازی کا نیا پاکستان معاشی اور اقتصادی تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ، اپوزیشن جماعتیں اس معاشی دہشت گردی پر بھرپور احتجاج کریں گی۔ مریم اورنگزیب نے اپنے ردعمل میں کہا کہ جب سے نالائق اور ووٹ چور حکومت عوام پہ مسلط ہے ہر روز بری خبر سننے کو ملتی ہے ۔ عید سے کچھ دن پہلے پٹرول کی قیمت میں اضافہ عوام کے ساتھ دشمنی کے مترادف ہے ،جب ملک کو آئی ایم ایف میں گروی رکھ دیا جائے گا تو ہر روز عوام کو ایسا ہی تحفہ ملے گا۔مریم اورنگزیب نے کہاکہ پٹرول کا 4 روپے 26 پیسے مہنگا ہونا نالائق اور نااہل وزیراعظم کی ایڈوانس عیدی کی قسط ہے ۔ نالائق اور نااہل وزیراعظم کا بوجھ 22 کروڑ عوام کو اٹھانا پڑ رہا ہے ۔ اسی نالائقی، نااہلی اور بے حسی کے سوالوں کے جواب نہ ہونے کے خوف سے عمران پارلیمان کے اجلاس کو نہیں چلنے دیتے ۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ جب سے نالائق اور ووٹ چور حکومت عوام پہ مسلط ہے ہر روز بری خبر سننے کو ملتی ہے ۔پٹرول کا مہنگا ہونا نالائق اور نااہل وزیراعظم کی ایڈوانس عیدی کی ایک اور قسط ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب ملکی بجٹ آئی ایم ایف بنائے گا تو عوام کے لئے ایڈوانس عیدی کی اقساط مرحلہ وار آئیں گی۔پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز نے کہا کہ عید سے چند روز پہلے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ثابت ہو گیا کہ ملک پر معاشی دہشت گرد مسلط ہیں ،عمران نیازی نے عیدالفطر پر قوم کو ریلیف دینے کے بجائے پٹرول بم گرا کر عید کی خوشیاں چھین لی ہیں۔ حمزہ شہباز نے کہا کہ معاشی دہشتگردوں نے ملک اور عوام کو یرغمال بنایا ہوا ہے ،عمران نیازی کی اصلیت قوم کے سامنے کھل کر آچکی ہے ،ریلیف کے نام پر قوم کو جو دھوکہ دیا گیا وہ بے نقاب ہو رہا ہے ، اب ملک بھر میں مہنگائی کے سونامی میں اضافہ ہو گا۔ طلال چودھری نے کہا ہے کہ جعلی مینڈیٹ سے عوام پر مسلط تبدیلی سرکار نے غربت بے روزگاری اور مہنگائی بڑھانے کے سوا کچھ نہ کیا ۔حکمرانوں نے بجلی ،گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں آئے روز اضافہ کرکے عوام کا جینا اجیرن بنادیاہے تبدیلی کاراگ الاپنے والے پی ٹی آئی کے کارکنوں میں مہنگائی کی وجہ سے جنون اور نہ ہی سکون ہے قرضہ لینے کے بجائے خودکشی کو ترجیح دینے کا کہنے والے یوٹرن خان کشکول کے بجائے چادریں لے کر در بدر بھیک مانگ رہے ہیں۔ ادھر پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنما ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہاہے کہ پٹرول قیمت میں اضافہ رات کی تاریکی میں ڈاکہ ہے ۔ ایک بیان میں نفیسہ شاہ نے کہاکہ عوام کا خون نچوڑ کر حکومت چلائی جا رہی ہے ۔انہوں نے کہا پٹرول کی قیمت میں اضافہ عوام کی عید کی خوشیوں پر شب خون ہے ۔انہوں نے کہاکہ عمران خان نے عوام پر مہنگائی کا بم گرادیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ نالائق حکومت عوام کیلئے عذاب بن چکی ہے ۔ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہاکہ جب ادھار پر پٹرول مل رہا ہے تو عوام کو ریلیف کیوں نہیں ملتا۔سیکرٹری جنرل پیپلز پارٹی نیئر حسین بخاری نے کہا ہے کہ حکمران شہریوں کے لئے مہنگائی بمبار بن چکے ہیں ،عید الفطر کے موقع پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ’’نئے پاکستان ‘‘میں ہی ممکن ہے ۔نیئر بخاری نے کہاکہ مدینہ کی ریاست کے دعویداروں نے پٹرول ایک بار پھر مہنگا کر دیا ۔ انہوں نے کہاکہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ بجٹ سے قبل منی بجٹ ہے ۔ انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف کی کڑی شرائط ماننے سے مہنگائی میں مزید اذیت ناک اضافہ ہو گا ۔پیپلزپارٹی کی سینئر سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ ناکام انقلابی سرکار نے 9 ماہ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 20 فیصد اضافہ کر کے غریب عوام کی کمر توڑ دی ۔ناکام حکومت نے 9 ماہ میں مہنگائی و بیروزگاری کے علاوہ عوام کو کچھ نہیں دیا عوام پہلے ہی حکومت کے خلاف ہیں ۔اب مزید جلتی پر تیل نہ ڈالا جائے ۔پاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفی کمال نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اپنی نااہلی کا ملبہ پاکستان کے غریب عوام پر ڈال رہی ہے ،ملک کو مدینہ جیسی ریاست بنانے کے دعوے داروں نے گزشتہ نوماہ میں اس ریاست کو ظلم کی ریاست بنا دیا ، وزیراعظم سمیت حکومتی معاشی ٹیم کے پاس ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کا کوئی فارمولا یا تدبیر نہیں ہے جسکے نتیجے میں عوام کومہنگائی اور بے روزگاری کی چکی میں پیس کررکھ دیا گیا ۔ وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر برائے اطلاعات ، قانون و اینٹی کرپشن بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے کو عوام مسترد کرتے ہیں۔قیمتوں میں چند پیسے اضافے پر واویلا کرنے والوں کو اب نجانے کیوں سانپ سونگھ گیا ہے وہ اس ظالمانہ اضافے پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں انہیں عوام سے کوئی سروکار نہیں ہے اس ظالمانہ اضافے سے عوام کی عید کی خوشیاں ماند پڑ جائینگی حکومت نے قیمتوں میں اضافہ کرکے عوام کو عید کا تحفہ دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ کونسی تبدیلی ہے ؟ کچھ تو خدا کا خوف کریں خان صاحب!عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے پٹرولیم مصنوعات میں اضافہ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تبدیلی سرکار نے عید سے پہلے عوام پر پٹرول بم گراکے ثابت کردیا کہ ان میں حکومت کرنے کی کوئی صلاحیت نہیں۔9مہینوں میں غریب عوام کی چیخیں نکال دیں، موجودہ حکومت غربت کے بجائے غریب کو ختم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو قوم سے معافی مانگ لینی چاہیے ۔