لاہور: وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ کسی شخص کو یہ غلط فہمی یا خوش فہمی نہیں ہونی چاہئے کہ اگر کوئی جیتا ہے تو وہ اپنے بل بوتے پر جیتا ہے وہ عمران خان کی وجہ سے جیتا ہے ، پارٹی کے معاملات میڈیا پر لانا مناسب نہیں ، وزیر کی اتھارٹی اہلیت اور صلاحیت سے ہوتی ہے ، ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ پارٹی کے اندرمختلف افراد کی مختلف رائے ہوتی ہے ۔پارٹی میں ہر شخص اپنی جگہ اہم ہے اور ہر ایک کا ایک کردار ہوتا ہے وہ فواد چودھری ہوں یا کوئی اور،میں ہوں یا کابینہ میں شامل اراکین یہ سب عمران خان کی ٹیم کے ممبران ہیں ۔انھوں نے کہا کہ عمران خان ہی اس ٹیم کے کپتان ہیں ۔انہوں نے کہا کہ فواد چودھری کا اپنا نقطہ نظر ہے وہ لوگ جو 22سال تک عمران خان کے ساتھ جدوجہد میں شریک رہے اور پارٹی کے لئے دن رات کام کرتے رہے اور 22سال کے بعد پارٹی جب بر سر اقتدار آئی ہے تو کیا ان کو نظر انداز کردیا جائے ۔ہر جماعت میں ہمیشہ ایک تھنک ٹینک موجود ہوتا ہے جو پارٹی کی پالیسی سازی میں سپورٹ بھی کرتا ہے اور گائید لائن بھی دیتا ہے ۔ایشوز پر دو طرح کی رائے ہو تو اکثریت فیصلہ کرتی ہے یہی جمہوریت ہے ۔ان کا کہنا تھا سب سے پہلے عوام کو عمران خان جوابدہ ہیں جو وزیر اعظم ہیں ۔جوابدہ پی ٹی آئی ہے جس کے ٹکٹ پر سب نے الیکشن لڑا ہے جوابدہ بلے کا نشان ہے جس پر سب نے ووٹ ڈالے گویا سب سے پہلے لیڈر شپ جوابدہ ہے ،عوام کو ریلیف دینے اور ملک کو مشکلات سے نکالنے کے لئے یہ عمران خان کا استحقاق ہے کہ وہ اپنی ٹیم میں کس کو شامل کریں۔وزارت میں مداخلت کے حوالے سے فواد چودھری کے بیان پر انھوں نے کہا کہ کوئی شخص کسی ادارے کو ون مین شو سے نہیں چلا سکتا۔ہمیشہ آپ کی ٹیم ساتھ چلتی ہے ،تقسیم کار ہوتا ہے ،ذمہ داریاں شیئر کی جاتی ہیں پاکستان سمیت دنیا میں کوئی شخص بھی عقل کل نہیں ۔مشاورت کرنی پڑتی ہے اور مشاورتی ٹیم میں اگر کوئی غلطیوں کی نشاندہی کرتا ہے یا کوئی بہتر مشورہ دے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ آپ کے کام میں مداخلت کر رہا ہے ۔ فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ہم سب سٹیک ہولڈر ہیں ،ایک ہی کشتی کے سوار ہیں اور اس کشتی کو منزل مقصودتک پہنچانا ہے ،یہ چھوٹی سوچ کی حامل باتیں ہیں ہمارا مشن بڑا ہے ۔ہماری منزل کٹھن ،ہمیں اپنی ذات کی نفی کر کے دوسروں کو ترجیح دے کر پاکستان کو مشکلات سے نکالنے کے لئے آگے بڑھنا چاہئے ۔مداخلت اس چیز کو کہیں گے جن کے پاس اتھارٹی ہو،فواد چودھری جتنے لوگوں کا نام لے رہے ہیں کسی کے پاس بھی اتھارٹی نہیں ہے وہ انچارج وزیر تھے ،وزیر کی اپنی اتھارٹی ہوتی ہے ،اگر کمپرو مائز ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ کہیں اہلیت اور صلاحیت کا ایشو ہے اور کسی اور کو آپ کو گائیڈ کرنا پڑ رہا ہے ۔وہ ایشو جو انھیں پارٹی میں ڈسکس کرنے چاہئیں میڈیا پر لانا مناسب نہیں اگر پارٹی کے ساتھ کوئی اختلاف رائے ہے تو وہ پارٹی قیادت کے ساتھ بات کریں ،یہاں میرا مقصد فواد چودھری کی ذات نہیں ، میں مجموعی طور پر بات کر رہی ہوں جہاں کہیں بھی کسی کو تبدیل کیا گیا ہے کچھ کمزوریاں تھیں تب ہی تو تبدیلیاں ہوئی ہیں ۔ ایک بیان میں فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے پاکستان میں خطے کے دیگر ممالک کی نسبت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کم اضافہ کیا گیا ، کرپشن الیون کے کھلاڑی عوامی جذبات سے کھیل کر اپنے گناہ بخشوانا چاہتے ہیں۔خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں تیل کی قیمتیں کم بڑھائی ہیں۔ قومی خزانہ لوٹنے والے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر مگر مچھ کے آنسو بہا رہے ہیں۔ کرپٹ لیگ عوام کو بھڑکانے کیلئے منافقت کی سیاست کر رہی ہے ۔انہوں نے کہالاپتا اپوزیشن لیڈر کا لندن کے صحت افزا مقام سے عوام کا درد بیان کرنا مذاق سے کم نہیں۔ انہوں نے کہا لاکرز، لانچیں، گھر، پاپڑ، ریڑھی اور فالودے والوں کے اکاؤنٹس نہ بھرے جاتے تو آج ملکی معیشت مستحکم ہوتی۔ ادھر وزیر اعظم کے معاون برائے سمندر پار پاکستانیز ذلفی بخاری نے فواد چودھری کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کے فیصلوں میں کوئی سیاسی کمزوری نہیں ،جو کونسلر نہیں بن سکتے تھے آج رکن پارلیمنٹ ہیں،فواد چودھری آج کل لیبارٹری میں مصروف ہیں فیصلوں سے آگاہ نہیں،عمران خان خود فیصلے کرتے ہیں کابینہ سے پوچھنا ضروری نہیں ،وزیر اعظم مشورہ ضرور کرتے ہیں ،فیصلہ کرنا ان کا حق ہے ،انفارمیشن منسٹری میں زیادہ لوگ تھے ،اگر و ہ صحیح کام نہیں کررہے تھے تو تبدیلی تو لانی پڑتی ہے ،وزرات اطلاعات میں صحیح کام نہ کرنے پر تبدیلی لانا پڑی،یہ نہیں ہوگا کہ آصف زرداری گر جائے اور نواز شریف بچ جائے ،احتساب نہیں رکے گا،حکومت ہم چلا رہے ہیں،نیب اور عدالتیں احتساب کررہی ہیں وہ چلتا رہے گا،یہ نہیں ہوگا کہ خان صاحب بخش دینگے ،معاف کر دینگے یا این آر او ہوجائے گا،سب پارٹیوں میں اتنی طاقت نہیں کہ وہ اکیلے کھڑے ہوسکیں۔