نئی دہلی: بھارت میں ہٹلر مودی فاشزم مسلمانوں کے بعد سکھوں سے بھی مذہبی آزادی چھننے لگی۔ بی جے پی کے انتہاپسند رہنما سبرامنیم سوامی نے کرتارپور راہداری کھولنے کی مخالفت کر دی۔ جواہر لال نہرو کی اقوام متحدہ میں کشمیر کے حوالے سے درخواست بھی واپس لینےکا مطالبہ کر دیا۔بھارت میں انتہاپسند ہندوتوا نظریہ کا راج، فاشسٹ مودی حکومت میں اقلیتوں کا جینا محال ہو گیا۔ مقبوضہ کشمیر میں غاصبانہ اقدامات کے بعد سکھوں کی مذہبی آزادی چھیننے کی کوشش شروع ہو گئی، بھارتیہ جنتا پارٹی کی کرتارپور راہداری کے خلاف ہرزہ سرائی، انتہاپسند بھارتی حکمران جماعت کےرہنما سبرامنیم سوامی نےکہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کےمابین کرتارپور راہداری نہ کھولی جائے، بھارت صورتحال کی بہتری تک پاکستان سے کوئی مذاکرات نہ کرے، پاکستان پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا، کرتارپور راہداری پر کام روکا جائے۔پاکستان نے باباگرونانک کی 550 ویں سالگرہ کیلئے کرتارپور راہداری منصوبہ شروع کیا، پاکستان کا اقدام بابائے قوم قائداعظم کے مذہبی آزادی پر فرمودات کے عین مطابق ہے۔ راہداری کی مخالفت سے بھارتی حکمران جماعت کا ڈراؤنا چہرہ بےنقاب ہو گیا۔