اسلام آباد(بی بی سی  )وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ میری خواہش ہوگی کہ جس نے بھی سینیٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کی اس کانام عوا م کے سامنے لایا جائے ،پیسے کی طاقت سے بننے والا سینٹرملک کی خدمت کیا کرے گا نجی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ طلال چوہدری اور دانیال عزیز نے اگر کوئی ایسی بات کی ہے جو تضحیک کے معنوں میں آتی ہے تو انہیں معافی مانگ لینی چاہیے ،نہیں سمجھتا کہ انہوں نے دانستہ طور پر کوئی بھی بیانات دئیے،کسی بھی عوامی اجتماع میں جذباتی ہوکر ایسی باتیں ہوجاتی ہیں جو نہیں ہونی چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم ہائوس میں کوئی ٹی وی نہیں ،دفتری اوقات میں ٹی وی دیکھنے کا موقع نہیں ملتا لیکن اطلاعات مل جا تی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پارٹیز میں لوگوں کے درمیان تحفظات ہمیشہ ہی رہتے ہیں لیکن وہ بات چیت سے انہیں دور کر لیا جا تا ہے ۔پارٹی کو چھوڑ کر جانے والے لوگوں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ میں نہیں سمجھتا کہ اگر کوئی شخص غلطی سے یاکوئی دباﺅ میں آکر پارٹی چھوڑ دے تو اسے واپس نہ لیا جائے ،ہماری پارٹی سے بہت اچھے ،اچھے لوگ بھی چھوڑ کرچلے گئے لیکن میں نہیں سمجھتا کہ ان کے اس اقدام سے ان کے سیاسی قد کاٹھ میں اضافہ ہوا۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ حکومت میں آپ کا کام پالیسیاں بنانا ہوتا ہے ہماری حکومت نے خود کار اسلحے پر پابندی لگائی ۔انہوں نے کہا ممبی حملوں کے آج تک ہمیں کوئی بھی ثبوت نہیں دئیے گئے صرف باتیں کی جاتی ہیں حالانکہ ہم بارہا کہ چکے ہیں کہ اگر کوئی بھی ثبوت ہے تو فراہم کئے جائیں کارروائی ہوگی۔وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ راﺅ انوار کو خود ہی پیش ہونا چاہیے تھا،اس طرح چھپ کر وہ اپنے آپ کو قصور وار بنا رہا ہے ۔