اسلام آباد ( بی بی سی ) قومی سلامتی کمیٹی نے قومی مفاد کے تحفظ و سلامتی کے لئے اقدامات جاری رکھنے کا عزم اور افغانستان میں حالیہ دہشتگرد حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان کے عوام دکھ کی اس گھڑی میں افغان عوام کے ساتھ ہیں ، وزیر اعظم کا حالیہ دورہ افغانستان کے ساتھ تعلقات کی مضبوطی کے لئے اہم قدم ہے ، اجلاس میں ملک کی سلامتی کی صورتحال ، مشرقی اور مغربی سرحدی صورتحال سے متعلق امور پر بھی غور کیا گیا ۔وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا ، اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال ، وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات ، آرمی چیف جنرل قمر جاوبد باجوہ ، نیول چیف ظفر محمود عباسی ، ائیر چیف ایئرمارشل مجاہد انور خان ، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار ، قومی سلامتی کے مشیر ناصر خان جنجوعہ اور ڈی جی آئی بی سمیت سول و عسکری اعلیٰ حکام بھی شر یک ہوئے ۔اجلاس میں افغانستان میں حالیہ دہشتگرد حملوں کی شدید مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ پاکستان کے عوام دکھ کی اس کھڑی میں افغان عوام کے ساتھ ہیں ۔ وزیر اعظم کا حالیہ دورہ افغانستان کے ساتھ تعلقات کی مضبوطی کے لئے اہم قدم ہے ۔ مشترکہ مفادات کونسل اجلاس میں منظور کی گئی واٹر پالیسی پر کمیٹی کو بریفنگ دی گئی ، کمیٹی نے واٹر پالیسی کو اہم کامیابی قرار دیا ۔ ڈپٹی چیئرمین نے وزیر اعظم اور چاروں وزراء اعلیٰ کی جانب سے پانی کے چارٹر پر بریف کیا ۔ کمیٹی میں اظہار خیال کیا گیا کہ واٹر پالیسی اور پانی کے چارٹر سے پانی کے بحران سے نمٹنے میں مدد ملے گی ۔ وزیر خزانہ نے اجلاس میں پاکستان کی معاشی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی ۔ وزیر خزانہ نے کمیٹی کو گزشتہ 5 سال میں معاشی کامیابیوں سے آگاہ کیا ۔ قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے بھی معاملات پر غور کیا گیا ۔ اجلاس میں سیکرٹری داخلہ کی ویزوں کے نظام پر بریفنگ دی ۔ انہوں نے سیاحوں ، طلباء اور علاج کی سہولیات پر پاکستانی ویزہ نظام پر بریفنگ دی ۔کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ وزارت داخلہ وزارت خارجہ سے مل کر نئی پالیسی کی جلد تکمیل کرے گی ۔ اجلاس میں آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے مجوزہ انتظامی و اصلاحاتی پیکج پر غور کیا گیا ۔ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں عوامی خواہشات کے مطابق انتظامات کیے جائیں ۔ اجلاس میں خطے کی موجودہ صورتحال پر غور کیا گیا ۔ قومی مفاد کے تحفظ و سلامتی کے لئے اقدامات جاری رکھنے کا عزم بھی کیا گیا ۔