قاہرہ: الجزائر میں سرکاری اداروں اوردفاتر میں نقاب پر پابندی کے فیصلے کے بعد مصر میں بھی سرکاری دفاتر میں خواتین کے نقاب پر پابندی کی مہم شروع ہو گئی ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق مصر کے ایک سرکردہ رکن پارلیمنٹ محمد ابو حامد نیپارلیمنٹ میں ایک بل پیش کیا ہے جس میں سرکاری دفاتر میں خواتین کے نقاب پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔پارلیمنٹ میں پیش کردہ مطالبے میں کہا گیا ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں، اسپتالوں اور ریاست کے تمام دیگر اداروں میں کام کرنے والی خواتین کے لیے نقاب پر پابند عاید کی جائے۔عرب ٹی وی سے بات کرتے ہوئے نقاب پر پابندی کی تجویز کے بارے میں محمد ابو حامد نے کہا کہ انہوں نے دیگر ارکان سے بھی بات کی ہے۔ نقاب کی وجہ سے سرکاری اداروں اور دفاتر میں لوگوں کو مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ نیز نقاب کی وجہ سے امن وامان کے مسائل بگڑتے اور معاشرتی مشکلات جنم لیتی ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مصر کے دارالافتاء اور جامعہ الازھر کی طرف سے بھی نقاب کے حوالے سے واضح موقف سامنےآچکا ہے۔ مذہبی اداروں کا کہنا ہے کہ نقاب اسلام کے فرائض میں شامل نہیں بلکہ یہ محض ایک عادت ہے۔ وزیر اوقاف ومذہبی امور نے واضحکیا ہے کہ حکومت وقت سماجی ضرورت کے پیش نظر نقاب پر پابندی لگانے کا حکم دے سکتی ہے۔ابوحامد نے مزید کہا کہ حجاب اور نقاب کو دہشت گردوں نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ بے گناہ شہریوں کے خلاف جرائم کے لیے نقاب کو استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ وزیر اوقاف ڈاکٹرمحمد مختار جمعہ نے واضح کیا ہے کہ خواتین کو نقاب کے معاملے میں مکمل آزادی حاصل ہے۔ خواتین اپنی نجی زندگی اور گھروں سے باہر دفاترمیں کام ک دوران نقاب اتار سکتی ہیں۔